کلیات ِاقبال

حضرت علامہ محمد اقبال

›
بانگِ درا

فہرست

›
حصہ اول ہمالہ  گل رنگیں  عہد طفلی  مرزا غالب  ابر کوہسار ایک مکڑا اور مکھی  ایک پہاڑ اور گلہری  ایک گائے اور بکری  ب...

›
حصہ اول

اے ہمالہ

›
اے ہمالہ! اے فصيل کشور ہندوستاں  چومتا ہے تيري پيشاني کو جھک کر آسماں  تجھ ميں کچھ پيدا نہيں ديرينہ روزي کے نشاں  تو جواں ہے گردش...

گل رنگیں

›
تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہیں اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں  زیب محفل ہے ، شریک شورش محفل نہیں  یہ فراغت بزم ہستی میں مج...

عہد طفلی

›
تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے  وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے  تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے  حرف بے مطلب تھی خود میر...

مرزا غالب

›
فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا ہے پر مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا تھا سراپا روح تُو ، بزمِ سخن پیکر ترا زیبِ محفل بھی رہا ...

ابر کوہسار

›
ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن میرا کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن میرا شہر و ویرانہ مرا ، بحر م...

ایک مکڑا اور مکھی

›
ماخوذ - بچوں کے لیے  مکڑا  اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کب...

ایک پہاڑ اور گلہری

›
(ماخوذ از ایمرسن) (بچوں کے لیے) کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے ذرا سی چیز ہے ، اس...

ایک گائے اور بکری

›
(ماخوذ )بچوں کے لیے اک  چراگہ  ہری  بھری  تھی کہیں تھی   سراپا  بہار  جس  کی  زمیں کیا   سماں   اس  بہار  کا  ہو  بیاں ہر...

دعا

›
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جاے ہر جگہ میرے چمکنے...

ہمدردی

›
بلبل (ماخوذ از ولیم کوپر) بچوں کے لیے ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی اُڑنے...

ماں کا خواب

›
(ماخو ذ)  بچوں کے لیے  میں سوئی جو اِک شب تو دیکھا یہ خواب  بڑھا اور جس سے مِرا اِضطراب  یہ دیکھا، کہ میں جا رہی ہوں کہی...

پرندے کی فریاد

›
بچوں کے لیے پرنده آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی ...

خفتگان خاک سے استفسار

›
مہر روشن چھپ گیا ، اٹھی نقاب روئے شام  شانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گیسوئے شام  یہ سیہ پوشی کی تیاری کس کے غم میں ہے  محفل قدرت مگر...

شمع و پروانہ

›
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوں یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے آداب عشق تو نے سکھ...

عقل و دل

›
(نظم) غنچه رز عقل نے ايک دن يہ دل سے کہا بھولے بھٹکے کي رہنما ہوں ميں ہوں زميں پر ، گزر فلک پہ مرا ديکھ تو کس قدر رسا ہوں ...

صدائے درد

›
جل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے ہاں ڈبو دے اے محیط آب گنگا تو مجھے سرزمیں اپنی قیامت کی نفاق انگیز ہے وصل کیسا ، یاں تو اک...

آفتاب

›
ترجمہ گايتري اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو  شيرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو  باعث ہے تو وجود و عدم کي نمود کا  ہے سبز تيرے...

شمع

›
بزم جہاں میں میں بھی ہوں اے شمع! دردمند فریاد در گرہ صفت دانۂ سپند دی عشق نے حرارت سوز دروں تجھے اور گل فروش اشک شفق گوں کیا مجھے ...
›
ہوم
ویب ورژن دیکھیں
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.