انسان


قدرت کا عجیب یہ ستم ہے!
انسان کو راز جو بنایا

راز اس کی نگاہ سے چھپایا
بے تاب ہے ذوق آگہی کا

کھلتا نہیں بھید زندگی کا
حیرت آغاز و انتہا ہے

آئینے کے گھر میں اور کیا ہے
ہے گرم خرام موج دریا

دریا سوئے سجر جادہ پیما
بادل کو ہوا اڑا رہی ہے

شانوں پہ اٹھائے لا رہی ہے
تارے مست شراب تقدیر

زندان فلک میں پا بہ زنجیر
خورشید ، وہ عابد سحر خیز

لانے والا پیام بر خیز
مغرب کی پہاڑیوں میں چھپ کر
پیتا ہے مے شفق کا ساغر

لذت گیر وجود ہر شے
سر مست مے نمود ہر شے

کوئی نہیں غم گسار انساں
کیا تلخ ہے روزگار انساں!
مکمل تحریر اور تبصرے>>

انسان


منظر چمنستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا
محروم عمل نرگس مجبور تماشا ہے

رفتار کی لذت کا احساس نہیں اس کو
فطرت ہی صنوبر کی محروم تمنا ہے

تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں
انسان کی ہر قوت سرگرم تقاضا ہے

اس ذرے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم
یہ ذرہ نہیں ، شاید سمٹا ہوا صحرا ہے

چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
یہ ہستی دانا ہے ، بینا ہے ، توانا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے>>