کلیات ِاقبال
حضرت علامہ محمد اقبال
بانگِ درا
ضربِ کلیم
با ل جبر یل
ارمغانِ حجاز
زمین و آسماں
ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں
اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
ہے سلسلۂ احوال کا ہر لحظہ دگرگوں
اے سالک رہ! فکر نہ کر سود و زیاں کا
شاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں کی
تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا!
مکمل تحریر اور تبصرے>>
پرانی تحاریر
سرِورق