کلیات ِاقبال
حضرت علامہ محمد اقبال
بانگِ درا
ضربِ کلیم
با ل جبر یل
ارمغانِ حجاز
موت
لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے
اگر ہو زندہ تو دل ناصبور رہتا ہے
مہ و ستارہ ، مثال شرارہ یک دو نفس
مے خودی کا ابد تک سرور رہتا ہے
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے!
مکمل تحریر اور تبصرے>>
پرانی تحاریر
سرِورق