دعا


لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

دور دنیا کا میرے دم سے اندھیرا ہو جاے
ہر جگہ میرے چمکنے سےاجالا ہو جاے

ہو میرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

میرے اللہ براٴیی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس راہ پہ چلانا مجھ کو

مکمل تحریر اور تبصرے>>

دعا


یا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے ، جو روح کو تڑپا دے

پھر وادی فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے

محروم تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے

بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے

پیدا دل ویراں میں پھر شورش محشر کر
اس محمل خالی کو پھر شاہد لیلا دے

اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے

رفعت میں مقاصد کو ہمدوش ثریا کر
خود داری ساحل دے، آزادی دریا دے

بے لوث محبت ہو ، بے باک صداقت ہو
سینوں میں اجالا کر، دل صورت مینا دے

احساس عنایت کر آثار مصیبت کا
امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے

میں بلبل نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں ، محتاج کو ، داتا دے!
مکمل تحریر اور تبصرے>>

دعا


(مسجد قرطبہ میں لکھی گئی) 

ہے یہی میری نماز ، ہے یہی میرا وضو 
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو 

صحبت اہل صفا ، نور و حضور و سرور 
سر خوش و پرسوز ہے لالہ لب آبجو

راہ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق 
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو 

میرا نشیمن نہیں درگہ میر و وزیر 
میرا نشیمن بھی تو ، شاخ نشیمن بھی تو 

تجھ سے گریباں مرا مطلع صبح نشور 
تجھ سے مرے سینے میں آتش 'اللہ ھو'

تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ 
تو ہی مری آرزو ، تو ہی مری جستجو 

 پاس اگر تو نہیں ، شہر ہے ویراں تمام 
تو ہے تو آباد ہیں اجڑے ہوئے کاخ و کو 

پھر وہ شراب کہن مجھ کو عطا کہ میں 
ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سبو 

چشم کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظر 
جلوتیوں کے سبو ، خلوتیوں کے کدو 

تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ 
اپنے لیے لامکاں ، میرے لیے چار سو! 

فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا 
حرف تمنا ، جسے کہہ نہ سکیں رو برو 

مکمل تحریر اور تبصرے>>