مسولینی


ندرت فکر و عمل کیا شے ہے ، ذوق انقلاب 
ندرت فکر و عمل کیا شے ہے ، ملت کا شباب 

ندرت فکر و عمل سے معجزات زندگی 
ندرت فکر و عمل سے سنگ خارا لعل ناب 

رومۃ الکبریٰ! دگرگوں ہو گیا تیرا ضمیر 
اینکہ می بینم بہ بیدار یست یا رب یا بہ خواب! 

چشم پیران کہن میں زندگانی کا فروغ 
نوجواں تیرے ہیں سوز آرزو سے سینہ تاب 

یہ محبت کی حرارت ، یہ تمنا ، یہ نمود 
فصل گل میں پھول رہ سکتے نہیں زیر حجاب 

نغمہ ہائے شوق سے تیری فضا معمور ہے 
زخمہ ور کا منتظر تھا تیری فطرت کا رباب 

فیض یہ کس کی نظر کا ہے ، کرامت کس کی ہے؟ 
وہ کہ ہے حس کی نگہ مثل شعاع آفتاب!
مکمل تحریر اور تبصرے>>

مسولینی


(اپنے مشرقی اور مغربی حریفوں سے)


کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جرم! 
بے محل بگڑا ہے معصومان یورپ کا مزاج 

میں پھٹکتا ہوں تو چھلنی کو برا لگتا ہے کیوں 
ہیں سبھی تہذیب کے اوزار ! تو چھلنی ، میں چھاج 

میرے سودائے ملوکیت کو ٹھکراتے ہو تم 
تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زجاج؟ 

یہ عجائب شعبدے کس کی ملوکیت کے ہیں 
راجدھانی ہے ، مگر باقی نہ راجا ہے نہ راج 

آل سیزر چوب نے کی آبیاری میں رہے 
اور تم دنیا کے بنجر بھی نہ چھوڑو بے خراج! 

تم نے لوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیام 
تم نے لوٹی کشت دہقاں ، تم نے لوٹے تخت و تاج 

پردۂ تہذیب میں غارت گری ، آدم کشی 
کل روا رکھی تھی تم نے ، میں روا رکھتا ہوں آج 
مکمل تحریر اور تبصرے>>