ضربِ کلیم
مکمل تحریر اور تبصرے>>

فہرست


ناظرین سے 

تمہید 

صبح 

لا الہ الا اللہ 

تن بہ تقدیر 

معراج 

ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام 

زمین و آسماں 

مسلمان کا زوال 

علم و عشق 

اجتہاد 

شکر و شکایت 

ذکر و فکر 

ملائے حرم 

تقدیر 

توحید 

علم اور دین 

ہندی مسلمان 

آزادی شمشیر کے اعلان پر 

جہاد 

قوت اور دین 

فقر و ملوکیت 

اسلام 

حیات ابدی 

سلطانی 

صوفی سے 

افرنگ زدہ 

تصوف 

ہندی اسلام 

غزل 

دنیا 

نماز 

وحی 

شکست 

عقل و دل 

مستی کردار 

قبر 

قلندر کی پہچان 

فلسفہ 

مردان خدا 

کافر و مومن 

مہدی برحق 

مومن 

محمد علی باب 

تقدیر 

اے روح محمد 

مدنیت اسلام 

امامت 

فقر و راہبی 

غزل 

تسلیم و رضا 

نکتۂ توحید 

الہام اور آزادیِ جان و تن 

لاہور و کراچی 

نبوت 

آدم 

مکہ اور جنیوا 

اے پیر حرم 

مہدی 

مرد مسلمان 

پنجابی مسلمان 

آزادی 

اشاعت اسلام فرنگستان میں 

لا و الا 

امرائے عرب سے 

احکام الہی 

موت 

قم باذن اللہ 

مقصود 

زمانۂ حاضر کا انسان 

اقوام مشرق 

آگاہی 

مصلحین مشرق 

مغربی تہذیب 

اسرار پیدا 

سلطان ٹیپو کی وصیت 

غزل 

بیداری 

خودی کی تربیت 

آزادی فکر 

خودی کی زندگی 

حکومت 

ہندی مکتب 

تربیت 

خوب و زشت 

مرگ خودی 

مہمان عزیز 

عصر حاضر 

طالب علم 

امتحان 

مدرسہ 

حکیم نطشہ 

اساتذہ 

غزل 

دین و تعلیم 

جاوید سے 

مرد فرنگ 

ایک سوال 

پردہ 

خلوت 

عورت 

آزادیِ نسواں 

عورت کی حفاظت 

عورت اور تعلیم 

عورت 

دین و ہنر 

تخلیق 

جنوں 

اپنے شعر سے 

پیرس کی مسجد 

ادبیات 

نگاہ 

مسجد قوت الاسلام 

تیاتر 

شعاع امید 

امید 

نگاہ شوق 

اہل ہنر سے 

غزل 

وجود 

سرود 

نسیم و شبنم 

اہرام مصر 

مخلوقات ہنر 

اقبال 

فنون لطیفہ 

صبح چمن 

خاقانی 

رومی 

جدت 

مرزا بیدل 

جلال و جمال 

مصور 

سرود حلال 

سرود حرام 

فوارہ 

شاعر 

شعر عجم 

ہنروران ہند 

مرد بزرگ 

عالم نو 

ایجاد معانی 

موسیقی 

ذوق نظر 

شعر 

رقص و موسیقی 

ضبط 

رقص 

اشتراکیت 

کارل مارکس کی آواز 

انقلاب 

خوشامد 

مناصب 

یورپ اور یہود 

نفسیات غلامی 

غلاموں کے لیے 

اہل مصر سے 

ابی سینیا 

جمعیت اقوام مشرق 

سلطانی جاوید 

جمہوریت 

یورپ اور سوریا 

مسولینی 

گلہ 

انتداب 

لادین سیاست 

دام تہذیب 

نصیحت 

ایک بحری قزاق اور سکندر 

جمعیت اقوام 

شام و فلسطین 

سیاسی پیشوا 

نفسیات غلامی 

غلاموں کی نماز 

فلسطینی عرب سے 

مشرق و مغرب 

نفسیات حاکمی 

مکمل تحریر اور تبصرے>>

اعلیٰ حضرت نواب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں!


اعلیٰ حضرت نواب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں! 

زمانہ با امم ایشیا چہ کرد و کند 
کسے نہ بود کہ ایں داستاں فرو خواند 

تو صاحب نظری آنچہ در ضمیر من است 
دل تو بیند و اندیشۂ تو می داند 

بگیر ایں ہمہ سرمایۂ بہار از من 
'کہ گل بدست تو از شاخ تازہ تر ماند'

ناظرین سے 

جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر 
تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ 

یہ زور دست و ضربت کاری کا ہے مقام 
میدان جنگ میں نہ طلب کر نوائے چنگ 

خون دل و جگر سے ہے سرمایۂ حیات 
فطرت ، لہو ترنگ ہے غافل! نہ ، جل ترنگ

مکمل تحریر اور تبصرے>>

تمہید



(1) 

نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری 
کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح تریاکی 

اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے 
بری ہے مستئ اندیشہ ہائے افلاکی 

تری نجات غم مرگ سے نہیں ممکن 
کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر خاکی 

زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا 
ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی 

عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ کو 
کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے باکی! 

(2) 

ترا گناہ ہے اقبال! مجلس آرائی 
اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم پیوند 

جو کوکنار کے خوگر تھے، ان غریبوں کو 
تری نوا نے دیا ذوق جذبہ ہائے بلند 

تڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے 
وہ پر شکستہ کہ صحن سرا میں تھے خورسند 

تری سزا ہے نوائے سحر سے محرومی 
مقام شوق و سرور و نظر سے محرومی 

مکمل تحریر اور تبصرے>>
 اسلام اور مسلمان
مکمل تحریر اور تبصرے>>

صبح


(1) 

نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری 
کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح تریاکی 

اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے 
بری ہے مستئ اندیشہ ہائے افلاکی 

تری نجات غم مرگ سے نہیں ممکن 
کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر خاکی

زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا 
ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی 

عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ کو 
کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے باکی! 


(2) 


ترا گناہ ہے اقبال! مجلس آرائی 
اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم پیوند 

جو کوکنار کے خوگر تھے، ان غریبوں کو 
تری نوا نے دیا ذوق جذبہ ہائے بلند 

تڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے 
وہ پر شکستہ کہ صحن سرا میں تھے خورسند 

تری سزا ہے نوائے سحر سے محرومی 
مقام شوق و سرور و نظر سے محرومی 


مکمل تحریر اور تبصرے>>

لا الہ الا اللہ


خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ 
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ 

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ 

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا 
فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ 

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند 
بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ 

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری 
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ 

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند 
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ 

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں 
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ

مکمل تحریر اور تبصرے>>

تن بہ تقدیر


اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم 
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر 

'تن بہ تقدیر' ہے آج ان کے عمل کا انداز 
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر 

تھا جو 'ناخوب، بتدریج وہی ' خوب' ہوا 
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

مکمل تحریر اور تبصرے>>

معراج


دے ولولۂ شوق جسے لذت پرواز 
کر سکتا ہے وہ ذرّہ مہ و مہر کو تاراج 

مشکل نہیں یاران چمن ! معرکہ باز 
پر سوز اگر ہو نفس سینۂ دراج 

ناوک ہے مسلماں ، ہدف اس کا ہے ثریا 
ہے سر سرا پردۂ جاں نکتہ معراج 

تو معنیِ و النجم ، نہ سمجھا تو عجب کیا 
ہے تیرا مد و جزر ابھی چاند کا محتاج

مکمل تحریر اور تبصرے>>

ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام


تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا 
زناری برگساں نہ ہوتا 

ہیگل کا صدف گہر سے خالی 
ہے اس کا طلسم سب خیالی 

محکم کیسے ہو زندگانی 
کس طرح خودی ہو لازمانی! 

آدم کو ثبات کی طلب ہے 
دستور حیات کی طلب ہے 

دنیا کی عشا ہو جس سے اشراق 
مومن کی اذاں ندائے آفاق 

میں اصل کا خاص سومناتی 
آبا مرے لاتی و مناتی 

تو سید ہاشمی کی اولاد 
میری کف خاک برہمن زاد 

ہے فلسفہ میرے آب و گل میں 
پوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میں 

اقبال اگرچہ بے ہنر ہے 
اس کی رگ رگ سے باخبر ہے 

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز 
سن مجھ سے یہ نکتۂ دل افروز 

انجام خرد ہے بے حضوری 
ہے فلسفۂ  زندگی سے دوری 

افکار کے نغمہ ہائے بے صوت 
ہیں ذوق عمل کے واسطے موت 

دیں مسلک زندگی کی تقویم 
دیں سر محمد و براہیم 

''دل در سخن محمدی بند 
اے پور علی ز بو علی چند! 

چوں دیدۂ راہ بیں نداری 
قاید قرشی بہ از بخاری '' 
مکمل تحریر اور تبصرے>>

زمین و آسماں


ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں 
اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا 

ہے سلسلۂ احوال کا ہر لحظہ دگرگوں 
اے سالک رہ! فکر نہ کر سود و زیاں کا 

شاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں کی 
تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا!

مکمل تحریر اور تبصرے>>

مسلمان کا زوال


اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات 
جو فقر سے ہے میسر، تو نگری سے نہیں 

اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور 
قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں 

سبب کچھ اور ہے، تو جس کو خود سمجھتا ہے 
زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں 

اگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہوا 
قلندری سے ہوا ہے، تو نگری سے نہیں

مکمل تحریر اور تبصرے>>

علم و عشق


علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن 
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن 

بندۂ تخمین و ظن! کرم کتابی نہ بن 
عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب! 

عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ کائنات 
علم مقام صفات، عشق تماشائے ذات 

عشق سکون و ثبات، عشق حیات و ممات 
علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب! 

عشق کے ہیں معجزات سلطنت و فقر و دیں 
عشق کے ادنی غلام صاحب تاج و نگیں 

عشق مکان و مکیں، عشق زمان و زمیں 
عشق سراپا یقیں، اور یقیں فتح باب! 

شرع محبت میں ہے عشرت منزل حرام 
شورش طوفاں حلال، لذت ساحل حرام 

عشق پہ بجلی حلال، عشق پہ حاصل حرام 
علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے ام الکتاب!

مکمل تحریر اور تبصرے>>

اجتہاد


ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے 
نہ کہیں لذت کردار، نہ افکار عمیق 

حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں 
آہ محکومی و تقلید و زوال تحقیق! 

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں 
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق! 

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب 
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!

مکمل تحریر اور تبصرے>>

شکر و شکایت


میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شکر ہے تیرا 
رکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہوت سے پیوند 

اک ولولۂ تازہ دیا میں نے دلوں کو 
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند 

تاثیر ہے یہ میرے نفس کی کہ خزاں میں 
مرغان سحر خواں مری صحبت میں ہیں خورسند 

لیکن مجھے پیدا کیا اس دیس میں تو نے 
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!

مکمل تحریر اور تبصرے>>

ذکر و فکر


یہ ہیں سب ایک ہی سالک کی جستجو کے مقام 
وہ جس کی شان میں آیا ہے 'علم الاسما' 

مقام ذکر، کمالات رومی و عطار 
مقام فکر، مقالات بوعلیسینا 

مقام فکر ہے پیمائش زمان و مکاں 
مقام ذکر ہے سبحان ربی الاعلی

مکمل تحریر اور تبصرے>>

ملائے حرم


عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو 
تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام 

تری نماز میں باقی جلال ہے، نہ جمال 
تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام

مکمل تحریر اور تبصرے>>

تقدیر


نااہل کو حاصل ہے کبھی قوت و جبروت 
ہے خوار زمانے میں کبھی جوہر ذاتی 

شاید کوئی منطق ہو نہاں اس کے عمل میں 
تقدیر نہیں تابع منطق نظر آتی 

ہاں، ایک حقیقت ہے کہ معلوم ہے سب کو 
تاریخ امم جس کو نہیں ہم سے چھپاتی 

'ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اس کی 
براں صفت تیغ دو پیکر نظر اس کی!'

مکمل تحریر اور تبصرے>>

توحید


زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی 
آج کیا ہے، فقط اک مسئلۂ علم کلام 

روشن اس ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو 
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام 

میں نے اے میر سپہ! تیری سپہ دیکھی ہے 
'قل ھو اللہ‘ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام 

آہ! اس راز سے واقف ہے نہ ملا، نہ فقیہ 
وحدت افکار کی بے وحدت کردار ہے خام 

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے 
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!

مکمل تحریر اور تبصرے>>

علم اور دین


وہ علم اپنے بتوں کا ہے آپ ابراہیم 
کیا ہے جس کو خدا نے دل و نظر کا ندیم 

زمانہ ایک ، حیات ایک ، کائنات بھی ایک 
دلیل کم نظری، قصۂ جدید و قدیم 

چمن میں تربیت غنچہ ہو نہیں سکتی 
نہیں ہے قطرۂ شبنم اگر شریک نسیم 

وہ علم، کم بصری جس میں ہمکنار نہیں 
تجلیات کلیم و مشاہدات حکیم!

مکمل تحریر اور تبصرے>>