غزل


دل مردہ دل نہیں ہے،اسے زندہ کر دوبارہ 
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ 

ترا بحر پر سکوں ہے، یہ سکوں ہے یا فسوں ہے؟ 
نہ نہنگ ہے، نہ طوفاں، نہ خرابی کنارہ! 

تو ضمیر آسماں سے ابھی آشنا نہیں ہے 
نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزۂ ستارہ 

ترے نیستاں میں ڈالا مرے نغمۂ سحر نے 
مری خاک پے سپر میں جو نہاں تھا اک شرارہ 

نظر آئے گا اسی کو یہ جہان دوش و فردا 
جسے آ گئی میسر مری شوخی نظارہ

مکمل تحریر اور تبصرے>>

غزل

تیری متاع حیات، علم و ہنر کا سرور 
میری متاع حیات ایک دل ناصبور! 

معجزۂ اہل فکر، فلسفۂ پیچ پیچ 
معجزۂ اہل ذکر، موسی و/ فرعون و طور 

مصلحتاً کہہ دیا میں نے مسلماں تجھے 
تیرے نفس میں نہیں، گرمی یوم النشور 

ایک زمانے سے ہے چاک گریباں مرا 
تو ہے ابھی ہوش میں، میرے جنوں کا قصور 

فیض نظر کے لیے ضبط سخن چاہیے 
حرف پریشاں نہ کہہ اہل نظر کے حضور 

خوار جہاں میں کبھی ہو نہیں سکتی وہ قوم 
عشق ہو جس کا جسور ، فقر ہو جس کا غیور

مکمل تحریر اور تبصرے>>

غزل


نہ میں اعجمی نہ ہندی ، نہ عراقی و حجازی 
کہ خودی سے میں نے سیکھی دوجہاں سے بے نیازی 

تو مری نظر میں کافر ، میں تری نظر میں کافر 
ترا دیں نفس شماری ، مرا دیں نفس گدازی 

تو بدل گیا تو بہتر کہ بدل گئی شریعت 
کہ موافق تدرواں نہیں دین شاہبازی 

ترے دشت و در میں مجھ کو وہ جنوں نظر نہ آیا 
کہ سکھا سکے خرد کو رہ و رسم کارسازی 

نہ جدا رہے نوا گر تب و تاب زندگی سے 
کہ ہلاکی امم ہے یہ طریق نے نوازی

مکمل تحریر اور تبصرے>>

غزل


ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ 
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ

میسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو 
نہیں ہے بندۂ حر کے لیے جہاں میں فراغ 

فروغ مغربیاں خیرہ کر رہا ہے تجھے 
تری نظر کا نگہباں ہو صاحب 'مازاغ' 

وہ بزم عیش ہے مہمان یک نفس دو نفس 
چمک رہے ہیں مثال ستارہ جس کے ایاغ 

کیا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا 
صبا سے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ

مکمل تحریر اور تبصرے>>

غزل

دریا میں موتی ، اے موج بے باک 
ساحل کی سوغات ! خاروخس و خاک 

میرے شرر میں بجلی کے جوہر 
لیکن نیستاں تیرا ہے نم ناک 

تیرا زمانہ ، تاثیر تیری 
ناداں ! نہیں یہ تاثیر افلاک 

ایسا جنوں بھی دیکھا ہے میں نے 
جس نے سیے ہیں تقدیر کے چاک 

کامل وہی ہے رندی کے فن میں 
مستی ہے جس کی بے منت تاک 

رکھتا ہے اب تک میخانۂ شرق 
وہ مے کہ جس سے روشن ہو ادراک 

اہل نظر ہیں یورپ سے نومید 
ان امتوں کے باطن نہیں پاک

مکمل تحریر اور تبصرے>>