شاعر


قوم گويا جسم ہے ، افراد ہيں اعضائے قوم
منزل صنعت کے ره پيما ہيں دست و پائے قوم

محفل نظم حکومت ، چہرۀ زيبائے قوم
شاعر رنگيں نوا ہے ديدۀ بينائے قوم

مبتالئے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
مکمل تحریر اور تبصرے>>

شاعر


جوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سے
پی کے شراب لالہ گوں مے کدۂ بہار سے

مست مے خرام کا سن تو ذرا پیام تو
زندہ وہی ہے کام کچھ جس کو نہیں قرار سے

پھرتی ہے وادیوں میں کیا دختر خوش خرام ابر
کرتی ہے عشق بازیاں سبزۂ مرغزار سے

جام شراب کوہ کے خم کدے سے اڑاتی ہے
پست و بلند کر کے طے کھیتوں کو جا پلاتی ہے

شاعر دل نواز بھی بات اگر کہے کھری
ہوتی ہے اس کے فیض سے مزرع زندگی ہری

شان خلیل ہوتی ہے اس کے کلام سے عیاں
کرتی ہے اس کی قوم جب اپنا شعار آزری

اہل زمیں کو نسخۂ زندگی دوام ہے
خون جگر سے تربیت پاتی ہے جو سخنوری

گلشن دہر میں اگر جوئے مے سخن نہ ہو
پھول نہ ہو، کلی نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو
مکمل تحریر اور تبصرے>>

شاعر


مشرق کے نیستاں میں ہے محتاج نفس نے 
شاعر ! ترے سینے میں نفس ہے کہ نہیں ہے 

تاثیر غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرم 
اچھی نہیں اس قوم کے حق میں عجمی لے 

شیشے کی صراحی ہو کہ مٹی کا سبو ہو 
شمشیر کی مانند ہو تیزی میں تری مے 

ایسی کوئی دنیا نہیں افلاک کے نیچے 
بے معرکہ ہاتھ آئے جہاں تخت جم و کے 

ہر لحظہ نیا طور ، نئی برق تجلی 
اللہ کرے مرحلۂشوق نہ ہو طے!

مکمل تحریر اور تبصرے>>