نصیحت


میں نے اقبال سے از راہ نصیحت یہ کہا
عامل روزہ ہے تو اور نہ پابند نماز

تو بھی ہے شیوۂ ارباب ریا میں کامل
دل میں لندن کی ہوس ، لب پہ ترے ذکر حجاز

جھوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا ہے
تیرا انداز تملق بھی سراپا اعجاز

ختم تقریر تری مدحت سرکار پہ ہے
فکر روشن ہے ترا موجد آئین نیاز

در حکام بھی ہے تجھ کو مقام محمود
پالسی بھی تری پیچیدہ تر از زلف ایاز

اور لوگوں کی طرح تو بھی چھپا سکتا ہے
پردۂ خدمت دیں میں ہوس جاہ کا راز

نظر آ جاتا ہے مسجد میں بھی تو عید کے دن
اثر وعظ سے ہوتی ہے طبیعت بھی گداز

دست پرورد ترے ملک کے اخبار بھی ہیں
چھیڑنا فرض ہے جن پر تری تشہیر کا ساز

اس پہ طرہ ہے کہ تو شعر بھی کہہ سکتا ہے
تیری مینائے سخن میں ہے شراب شیراز

جتنے اوصاف ہیں لیڈر کے ، وہ ہیں تجھ میں سبھی
تجھ کو لازم ہے کہ ہو اٹھ کے شریک تگ و تاز

غم صیاد نہیں ، اور پر و بال بھی ہیں
پھر سبب کیا ہے ، نہیں تجھ کو دماغ پرواز

''عاقبت منزل ما وادی خاموشان است
حالیا غلغلہ در گنبد افلاک انداز''
مکمل تحریر اور تبصرے>>

نصیحت


بچۂ شاہیں سے کہتا تھا عقاب سالخورد 
اے تیرے شہپر پہ آساں رفعت چرخ بریں 

ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام 
سخت کوشی سے ہے تلخ زندگانی انگبیں 

جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزا ہے اے پسر! 
وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں

مکمل تحریر اور تبصرے>>

نصیحت


اک لرد فرنگی نے کہا اپنے پسر سے 
منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیر 

بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم 
برے پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر 

سینے میں رہے راز ملوکانہ تو بہتر 
کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر 

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو 
ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ، اسے پھیر 

تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب 
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

مکمل تحریر اور تبصرے>>