نفسیات غلامی


شاعر بھی ہیں پیدا ، علما بھی ، حکما بھی 
خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ 

مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک 
ہر ایک ہے گو شرح معانی میں یگانہ 

بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو 
باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ، 

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند 
تاویل مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

مکمل تحریر اور تبصرے>>

نفسیات غلامی


سخت باریک ہیں امراض امم کے اسباب 
کھول کر کہیے تو کرتا ہے بیاں کوتاہی 

دین شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ 
دیکھتے ہیں فقط اک فلسفۂ روباہی 

ہو اگر قوت فرعون کی در پردہ مرید 
قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللہی

مکمل تحریر اور تبصرے>>