آرزو


دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو 

شورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے میرا 
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو 

مرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے میری 
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو 

آزاد فکر سے ہوں ، عزلت میں دن گزاروں 
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو 

لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں 
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو 

گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا 
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو 

ہو ہاتھ کا سرھانا سبزے کا ہو بچھونا 
شرمائے جس سے جلوت ، خلوت میں وہ ادا ہو 

مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل 
ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو 

صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں 
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو 

ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ 
پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو 

آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہ 
پھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو 

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی 
جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو 

مہندی لگائے سورج جب شام کی دلھن کو 
سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو 

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم 
امید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو 

بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دے 
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو 

پچھلے پہر کی کوئل ، وہ صبح کی مؤذن 
میں اس کا ہم نوا ہوں ، وہ میری ہم نوا ہو 

کانوں پہ ہو نہ میرے دیر وحرم کا احساں 
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو 

پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے 
رونا مرا وضو ہو ، نالہ مری دعا ہو 

اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے 
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو 

ہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دے 
بے ہوش جو پڑے ہیں ، شاید انھیں جگا دے

مکمل تحریر اور تبصرے>>

آفتاب صبح



شورش میخانۂ انساں سے بالاتر ہے تو
زینت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو

ہو در گوش عروس صبح وہ گوہر ہے تو
جس پہ سیمائے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو

صفحۂ ایام سے داغ مداد شب مٹا
آسماں سے نقش باطل کی طرح کوکب مٹا

حسن تیرا جب ہوا بام فلک سے جلوہ گر
آنکھ سے اڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا اثر

نور سے معمور ہو جاتا ہے دامان نظر
کھولتی ہے چشم ظاہر کو ضیا تیری مگر

ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیے
چشم باطن جس سے کھل جائے وہ جلوا چاہیے

شوق آزادی کے دنیا میں نہ نکلے حوصلے
زندگی بھر قید زنجیر تعلق میں رہے

زیر و بالا ایک ہیں تیری نگاہوں کے لیے
آرزو ہے کچھ اسی چشم تماشا کی مجھے

آنکھ میری اور کے غم میں سرشک آباد ہو
امتیاز ملت و آئیں سے دل آزاد ہو

بستۂ رنگ خصوصیت نہ ہو میری زباں
نوع انساں قوم ہو میری ، وطن میرا جہاں

دیدۂ باطن پہ راز نظم قدرت ہو عیاں
ہو شناسائے فلک شمع تخیل کا دھواں

عقدۂ اضداد کی کاوش نہ تڑپائے مجھے
حسن عشق انگیز ہر شے میں نظر آئے مجھے

صدمہ آ جائے ہوا سے گل کی پتی کو اگر
اشک بن کر میری آنکھوں سے ٹپک جائے اثر

دل میں ہو سوز محبت کا وہ چھوٹا سا شرر
نور سے جس کے ملے راز حقیقت کی خبر

شاہد قدرت کا آئینہ ہو ، دل میرا نہ ہو
سر میں جز ہمدردی انساں کوئی سودا نہ ہو

تو اگر زحمت کش ہنگامۂ عالم نہیں
یہ فضیلت کا نشاں اے نیر اعظم نہیں

اپنے حسن عالم آرا سے جو تو محرم نہیں
ہمسر یک ذرۂ خاک در آدم نہیں

نور مسجود ملک گرم تماشا ہی رہا
اور تو منت پذیر صبح فردا ہی رہا

آرزو نور حقیقت کی ہمارے دل میں ہے
لیلی ذوق طلب کا گھر اسی محمل میں ہے

کس قدر لذت کشود عقدۂ مشکل میں ہے
لطف صد حاصل ہماری سعی بے حاصل میں ہے

درد استفہام سے واقف ترا پہلو نہیں
جستجوئے راز قدرت کا شناسا تو نہیں

مکمل تحریر اور تبصرے>>

دردِ عشق


اے دردِ عشق! ہے گہرِ آب دار تو!
نا محرموں میں دیکھ نہ ہو آشکار تو

پنہاں تہِ نقاب تری جلوہ گاہ ہے
ظاہر پرست محفِل نو کی نگاہ ہے

آئی نئی ہوا چمِن ہست و بود میں
اے دردِ عشق! اب نہیں لذّت نمود میں!

ہاں! خودنمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو!
منّت پذیر نالۂ بلبل کا تو نہ ہو

خالی شرابِ عشق سے لالے کا جام ہو
پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو

پنہاں درونِ سینہ کہیں راز ہو ترا
شکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تر

گویا زبانِ شاعر رنگیں بیاں نہ ہو
آوازِِ نَے میں شکوۂ فرقت نہاں نہ ہو

یہ دور نکتہ چیں ہے کہیں چھپ کے بیٹھ رہ
جس دل میں تو مکیں ہے وہیں چھپ کے بیٹھ رہ

!غافل ہے تجھ سے حیرت علم آفریدہ دیکھ
جویا نہیں تری نگہِ نا رسیدہ دیکھ

رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو
حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو

جس کی بہار تو ہو یہ ایسا چمن نہیں
قابل تری نمود کے یہ رنجمن نہیں

یہ انجمن ہے کشتۂ نظارۂ مجاز
مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز

ہر دل مئے خیال کی مستی سے چُور ہے
کچھ اور آج کل کے کلیموں کا طُور ہے

مکمل تحریر اور تبصرے>>

اے گل پژمرده

کس زباں سے اے گل پژمرده تجھ کو گل کہوں 
کس طرح تجھ کو تمنائے دل بلبل کہوں

تھی کبھی موج صبا گہوارۀ جنباں ترا 
نام تھا صحن گلستاں ميں گل خنداں ترا

تيرے احساں کا نسيم صبح کو اقرار تھا 
باغ تيرے دم سے گويا طبلۂ عطار تھا

تجھ پہ برساتا ہے شبنم ديدۀ گرياں مرا 
ہے نہاں تيری اداسی ميں دل ويراں مرا

کس زباں سے اے گل پژمرده تجھ کو گل کہوں 
کس طرح تجھ کو تمنائے دل بلبل کہوں

تھی کبھی موج صبا گہوارۀ جنباں ترا 
نام تھا صحن گلستاں ميں گل خنداں ترا

تيرے احساں کا نسيم صبح کو اقرار تھا 
باغ تيرے دم سے گويا طبلۂ عطار تھا

تجھ پہ برساتا ہے شبنم ديدۀ گرياں مرا 
ہے نہاں تيری اداسی ميں دل ويراں مرا

مکمل تحریر اور تبصرے>>

سيدکی لوح تربت


اے کہ تيرا مرغ جاں تار نفس ميں ہے اسير
اے کہ تيری روح کا طائر قفس ميں ہے اسير

اس چمن کے نغمہ پيراؤں کی آزادی تو ديکھ
شہر جو اجﮍا ہوا تھا اس کی آبادی تو ديکھ

فکر رہتی تھی مجھے جس کی وه محفل ہے يہی
صبر و استقالل کی کھيتی کا حاصل يہی

سنگ تربت ہے مرا گرويده تقرير ديکھ
چشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحرير ديکھ

مدعا تيرا اگر دنيا ميں ہے تعليم ديں
ترک دنيا قوم کو اپنی نہ سکھالنا کہيں

وا نہ کرنا فرقہ بندی کے ليے اپنی زباں
چھپ کے ہے بيٹھا ہوا ہنگامۂ محشر يہاں

وصل کے اسباب پيدا ہوں تری تحرير سے
ديکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقرير سے

محفل نو ميں پرانی داستانوں کو نہ چھيﮍ
رنگ پر جو اب نہ آئيں ان فسانوں کو نہ چھيﮍ

تو اگر کوئی مدبر ہے تو سن ميری صدا
ہے دليری دست ارباب سياست کا عصا

عرض مطلب سے جھجک جانا نہيں زيبا تجھے
نيک ہے نيت اگر تيری تو کيا پروا تجھے

بندۀ مومن کا دل بيم و ريا سے پاک ہے
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے

ہو اگر ہاتھوں ميں تيرے خامۂ معجز رقم
شيشۂ دل ہو اگر تيرا مثال جام جم

پاک رکھ اپنی زباں ، تلميذ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے ديکھنا تيری صدا بے آبرو!

سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خرمن باطل جال دے شعلۂ آواز س
مکمل تحریر اور تبصرے>>

ماه نو



ٹوٹ کر خورشيد کی کشتی ہوئی غرقاب نيل
ايک ٹکرا تيرتا پھرتا ہے روئے آب نيل

طشت گردوں ميں ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب
نشتر قدرت نے کيا کھولی ہے فصد آفتاب

چرخ نے بالی چرا لی ہے عروس شام کی
نيل کے پانی ميں يا مچھلی ہے سيم خام کی

قافلہ تيرا رواں بے منت بانگ درا
گوش انساں سن نہيں سکتا تری آواز پا

گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھالتا ہے تو
ہے وطن تيرا کدھر ، کس ديس کو جاتا ہے تو

ساتھ اے سيارۀ ثابت نما لے چل مجھے
خار حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے

نور کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستی ميں ميں
طفلک سيماب پا ہوں مکتب ہستی ميں ميں


مکمل تحریر اور تبصرے>>

انسان اور بزم قد رت


صبح خورشيد درخشاں کو جو ديکھا ميں نے
بزم معمورۀ ہستی سے يہ پوچھا ميں نے

پر تو مہر کے دم سے ہے اجاال تيرا
سيم سيال ہے پانی ترے درياؤں کا

مہر نے نور کا زيور تجھے پہنايا ہے
تيری محفل کو اسی شمع نے چمکايا ہے

گل و گلزار ترے خلد کی تصويريں ہيں
يہ سبھی سورۀ "والشمس" کی تفسيريں ہيں

سرخ پوشاک ہے پھولوں کی ، درختوں کی ہری
تيری محفل ميں کوئی سبز ، کوئی الل پری

ہے ترے خيمۂ گردوں کی طالئی جھالر
بدلياں الل سی آتی ہيں افق پر جو نظر

کيا بھلی لگتی ہے آنکھوں کو شفق کی اللی
مے گلرنگ خم شام ميں تو نے ڈالی

رتبہ تيرا ہے بﮍا ، شان بﮍی ہے تيری
پردۀ نور ميں مستور ہے ہر شے تيری

صبح اک گيت سراپا ہے تری سطوت کا
زير خورشيد نشاں تک بھی نہيں ظلمت کا

ميں بھی آباد ہوں اس نور کی بستی ميں مگر
جل گيا پھر مری تقدير کا اختر کيونکر؟

نور سے دور ہوں ظلمت ميں گرفتار ہوں ميں
کيوں سيہ روز ، سيہ بخت ، سيہ کار ہوں ميں؟

ميں يہ کہتا تھا کہ آواز کہيں سے آئی
بام گردوں سے وه يا صحن زميں سے آئی

ہے ترے نور سے وابستہ مری بود و نبود
باغباں ہے تری ہستی پے گلزار وجود

انجمن حسن کی ہے تو ، تری تصوير ہوں ميں
عشق کا تو ہے صحيفہ ، تری تفسير ہوں ميں

ميرے بگﮍے ہوئے کاموں کو بنايا تو نے
بار جو مجھ سے نہ اٹھا وه اٹھايا تو نے

نور خورشيد کی محتاج ہے ہستی ميری
اور بے منت خورشيد چمک ہے تری

ہو نہ خورشيد تو ويراں ہو گلستاں ميرا
منزل عيش کی جا نام ہو زنداں ميرا

آه اے راز عياں کے نہ سمجھے والے!
حلقۂ دام تمنا ميں الجھنے والے

ہائے غفلت کہ تری آنکھ ہے پابند مجاز
ناز زيبا تھا تجھے ، تو ہے مگر گرم نياز

تو اگر اپنی حقيقت سے خبردار رہے
نہ سيہ روز رہے پھر نہ سيہ کار رہے

مکمل تحریر اور تبصرے>>

پيا م صبح


( ماخوذ از النگ فيلو)


اجالا جب ہوا رخصت جبين شب کی افشاں کا
نسيم زندگی پيغام الئی صبح خنداں کا

جگايا بلبل رنگيں نوا کو آشيانے ميں
کنارے کھيت کے شانہ ہاليا اس نے دہقاں کا

طلسم ظلمت شب سورۀ والنور سے توڑا
اندھيرے ميں اڑايا تاج زر شمع شبستاں کا

پڑھا خوابيدگان دير پر افسون بيداری
برہمن کو ديا پيغام خورشيد درخشاں کا

ہوئی بام حرم پر آ کے يوں گويا مؤذن سے
نہيں کھٹکا ترے دل ميں نمود مہر تاباں کا؟

پکاری اس طرح ديوار گلشن پر کھﮍے ہو کر
چٹک او غنچۂ گل! تو مؤذن ہے گلستاں کا

ديا يہ حکم صحرا ميں چلو اے قافلے والو!
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذره بياباں کا

سوئے گور غريباں جب گئی زندوں کی بستی سے
تو يوں بولی نظارا ديکھ کر شہر خموشاں کا

ابھی آرام سے ليٹے رہو ، ميں پھر بھی آؤں گی
سالدوں گی جہاں کو خواب سے تم کو جگاؤں گی

مکمل تحریر اور تبصرے>>

عشق اور موت



سہانی نمود جہاں کی گھﮍی تھی
تبسم فشاں زندگی کی کلی تھی

کہيں مہر کو تاج زر مل رہا تھا
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی

سيہ پيرہن شام کو دے رہے تھے
ستاروں کو تعليم تابندگی تھی

کہيں شاخ ہستی کو لگتے تھے پتے
کہيں زندگی کی کلی پھوٹتی تھی

فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا
ہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھی

عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو
خودی تشنۂ کام مے بے خودی تھی

اٹھی اول اول گھٹا کالی کالی
کوئی حور چوٹی کو کھولے کھﮍی تھی

زميں کو تھا دعوی کہ ميں آسماں ہوں
مکاں کہہ رہا تھا کہ ميں ال مکاں ہوں

غرض اس قدر يہ نظاره تھا پيارا
کہ نظارگی ہو سراپا نظارا

ملک آزماتے تھے پرواز اپنی
جبينوں سے نور ازل آشکارا

فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا

فرشتہ کہ پتال تھا بے تابيوں کا
ملک کا ملک اور پارے کا پارا

پے سير فردوس کو جا رہا تھا
قضا سے مال راه ميں وه قضا را

يہ پوچھا ترا نام کيا ، کام کيا ہے
نہيں آنکھ کو ديد تيری گوارا

ہوا سن کے گويا قضا کا فرشتہ
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا

اڑاتی ہوں ميں رخت ہستی کے پرزے
بجھاتی ہوں ميں زندگی کا شرارا

مری آنکھ ميں جادوئے نيستی ہے
پيام فنا ہے اسی کا اشارا

مگر ايک ہستی ہے دنيا ميں ايسی
وه آتش ہے ميں سامنے اس کے پارا

شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل ميں
وه ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تارا

ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو
وه آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا

سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا

گری اس تبسم کی بجلی اجل پر
اندھيرے کا ہو نور ميں کيا گزارا

بقا کو جو ديکھا فنا ہو گئی وه
قضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ
مکمل تحریر اور تبصرے>>

ز ہد اور رندی


اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی
تيزی نہيں منظور طبيعت کی دکھانی

شہره تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا
کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانی

کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف ميں شريعت
جس طرح کہ الفاظ ميں مضمر ہوں معانی

لبريز مۓ زہد سے تھی دل کی صراحی
تھی تہ ميں کہيں درد خيال ہمہ دانی

کرتے تھے بياں آپ کرامات کا اپنی
منظور تھی تعداد مريدوں کی بڑھانی

مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے ميں ميرے
تھی رند سے زاہد کی مالقات پرانی

حضرت نے مرے ايک شناسا سے يہ پوچھا
اقبال ، کہ ہے قمری شمشاد معانی

پابندی احکام شريعت ميں ہے کيسا؟
گو شعر ميں ہے رشک کليم ہمدانی  

سنتا ہوں کہ کافر نہيں ہندو کو سمجھتا
ہے ايسا عقيده اثر فلسفہ دانی

ہے اس کی طبيعت ميں تشيع بھی ذرا سا
تفضيل علی ہم نے سنی اس کی زبانی

سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات ميں داخل
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی

کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہيں ہے
عادت يہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی

گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تالوت
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی

ليکن يہ سنا اپنے مريدوں سے ہے ميں نے
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی

مجموعۂ اضداد ہے ، اقبال نہيں ہے
دل دفتر حکمت ہے ، طبيعت خفقانی  

رندی سے بھی آگاه شريعت سے بھی واقف
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی

اس شخص کی ہم پر تو حقيقت نہيں کھلتی
ہو گا يہ کسی اور ہی اسالم کا بانی

القصہ بہت طول ديا وعظ کو اپنے
تا دير رہی آپ کی يہ نغز بيانی

اس شہر ميں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب ميں
ميں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانی

اک دن جو سر راه ملے حضرت زاہد
پھر چھﮍ گئی باتوں ميں وہی بات پرانی

فرمايا ، شکايت وه محبت کے سبب تھی
تھا فرض مرا راه شريعت کی دکھانی

ميں نے يہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہيں ہے
يہ آپ کا حق تھا ز ره قرب مکانی  

خم ہے سر تسليم مرا آپ کے آگے
پيری ہے تواضع کے سبب ميری جوانی

گر آپ کو معلوم نہيں ميری حقيقت
پيدا نہيں کچھ اس سے قصور ہمہ دانی

ميں خود بھی نہيں اپنی حقيقت کا شناسا
گہرا ہے مرے بحر خياالت کا پانی

مجھ کو بھی تمنا ہے کہ "اقبال" کو ديکھوں
کی اس کی جدائی ميں بہت اشک فشانی

اقبال بھی "اقبال" سے آگاه نہيں ہے
کچھ اس ميں تمسخر نہيں ، وﷲ نہيں ہے

مکمل تحریر اور تبصرے>>

شاعر


قوم گويا جسم ہے ، افراد ہيں اعضائے قوم
منزل صنعت کے ره پيما ہيں دست و پائے قوم

محفل نظم حکومت ، چہرۀ زيبائے قوم
شاعر رنگيں نوا ہے ديدۀ بينائے قوم

مبتالئے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
مکمل تحریر اور تبصرے>>

دل


قصۂ دار و رسن بازئ طفلانۂ دل
التجائے 'ارنی' سرخی افسانۂ دل

یا رب اس ساغر لبریز کی مے کیا ہو گی
جاوۂ ملک بقا ہے خط پیمانۂ دل

ابر رحمت تھا کہ تھی عشق کی بجلی یا رب!
جل گئی مزرع ہستی تو اگا دانۂ دل

حسن کا گنج گراں مایہ تجھے مل جاتا
تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانۂ دل!

عرش کا ہے کبھی کعبے کا ہے دھوکا اس پر
کس کی منزل ہے الہی! مرا کاشانۂ دل

اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا
دل کسی اور کا دیوانہ ، میں دیوانۂ دل

تو سمجھتا نہیں اے زاہد ناداں اس کو
رشک صد سجدہ ہے اک لغزش مستانۂ دل

خاک کے ڈھیر کو اکسیر بنا دیتی ہے
وہ اثر رکھتی ہے خاکستر پروانۂ دل

عشق کے دام میں پھنس کر یہ رہا ہوتا ہے
برق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے>>

مو ج دریا


مضطرب رکھتا ہے میرا دل بے تاب مجھے
عین ہستی ہے تڑپ صورت سیماب مجھے

موج ہے نام مرا ، بحر ہے پایاب مجھے
ہو نہ زنجیر کبھی حلقۂ گرداب مجھے

آب میں مثل ہوا جاتا ہے توسن میرا
خار ماہی سے نہ اٹکا کبھی دامن میرا

میں اچھلتی ہوں کبھی جذب مہ کامل سے
جوش میں سر کو پٹکتی ہوں کبھی ساحل سے

ہوں وہ رہرو کہ محبت ہے مجھے منزل سے
کیوں تڑپتی ہوں ، یہ پوچھے کوئی میرے دل سے

زحمت تنگی دریا سے گریزاں ہوں میں
وسعت بحر کی فرقت میں پریشاں ہوں میں
مکمل تحریر اور تبصرے>>

رخصت اے بزم جہاں

( ماخوذ از ایمرسن)

رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں میں
آہ! اس آباد ویرانے میں گھبراتا ہوں میں

بسکہ میں افسردہ دل ہوں ، درخور محفل نہیں
تو مرے قابل نہیں ہے ، میں ترے قابل نہیں

قید ہے ، دربار سلطان و شبستان وزیر
توڑ کر نکلے گا زنجیر طلائی کا اسیر

گو بڑی لذت تری ہنگامہ آرائی میں ہے
اجنبیت سی مگر تیری شناسائی میں ہے

مدتوں تیرے خود آراؤں سے ہم صحبت رہا
مدتوں بے تاب موج بحر کی صورت رہا

مدتوں بیٹھا ترے ہنگامۂ عشرت میں میں
روشنی کی جستجو کرتا رہا ظلمت میں میں

مدتوں ڈھونڈا کیا نظارۂ گل خار میں
آہ ، وہ یوسف نہ ہاتھ آیا ترے بازار میں

چشم حیراں ڈھونڈتی اب اور نظارے کو ہے
آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کو ہے

چھوڑ کر مانند بو تیرا چمن جاتا ہوں میں
رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں میں

گھر بنایا ہے سکوت دامن کہسار میں
آہ! یہ لذت کہاں موسیقی گفتار میں

ہم نشین نرگس شہلا ، رفیق گل ہوں میں
ہے چمن میرا وطن ، ہمسایۂ بلبل ہوں میں

شام کو آواز چشموں کی سلاتی ہے مجھے
صبح فرش سبز سے کوئل جگاتی ہے مجھے

بزم ہستی میں ہے سب کو محفل آرائی پسند
ہے دل شاعر کو لیکن کنج تنہائی پسند

ہے جنوں مجھ کو کہ گھبراتا ہوں آبادی میں میں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں کس کو کوہ کی وادی میں میں ؟

شوق کس کا سبزہ زاروں میں پھراتا ہے مجھے
اور چشموں کے کنارے پر سلاتا ہے مجھے؟

طعنہ زن ہے تو کہ شیدا کنج عزلت کا ہوں میں
دیکھ اے غافل! پیامی بزم قدرت کا ہوں میں

ہم وطن شمشاد کا ، قمری کا میں ہم راز ہوں
اس چمن کی خامشی میں گوش بر آواز ہوں

کچھ جو سنتا ہوں تو اوروں کو سنانے کے لیے
دیکھتا ہوں کچھ تو اوروں کو دکھانے کے لیے

عاشق عزلت ہے دل ، نازاں ہوں اپنے گھر پہ میں
خندہ زن ہوں مسند دارا و اسکندر پہ میں
مکمل تحریر اور تبصرے>>

طفل شیر خوار


میں نے چاقو تجھ سے چھینا ہے تو چلاتا ہے تو
مہرباں ہوں میں ، مجھے نا مہرباں سمجھا ہے تو

پھر پڑا روئے گا اے نووارد اقلیم غم
چبھ نہ جائے دیکھنا! ، باریک ہے نوک قلم

آہ! کیوں دکھ دینے والی شے سے تجھ کو پیار ہے
کھیل اس کاغذ کے ٹکڑے سے ، یہ بے آزار ہے

گیند ہے تیری کہاں ، چینی کی بلی ہے کد ھر؟
وہ ذرا سا جانور ٹوٹا ہوا ہے جس کا سر

تیرا آئینہ تھا آزاد غبار آرزو
آنکھ کھلتے ہی چمک اٹھا شرار آرزو

ہاتھ کی جنبش میں ، طرز دید میں پوشیدہ ہے
تیری صورت آرزو بھی تیری نوزائیدہ ہے

زندگانی ہے تری آزاد قید امتیاز
تیری آنکھوں پر ہویدا ہے مگر قدرت کا راز

جب کسی شے پر بگڑ کر مجھ سے ، چلاتا ہے تو
کیا تماشا ہے ردی کاغذ سے من جاتا ہے تو

آہ! اس عادت میں ہم آہنگ ہوں میں بھی ترا
تو تلون آشنا ، میں بھی تلون آشنا

عارضی لذت کا شیدائی ہوں ، چلاتا ہوں میں
جلد آ جاتا ہے غصہ ، جلد من جاتا ہوں میں

میری آنکھوں کو لبھا لیتا ہے حسن ظاہری
کم نہیں کچھ تیری نادانی سے نادانی مری

تیری صورت گاہ گریاں گاہ خنداں میں بھی ہوں
دیکھنے کو نوجواں ہوں ، طفل ناداں میں بھی ہوں
مکمل تحریر اور تبصرے>>

تصویر درد


نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

اٹھائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری

اڑالی قمریوں نے ، طوطیوں نے ، عندلبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میری

ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میری

الہی! پھر مزا کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کا
حیات جاوداں میری ، نہ مرگ ناگہاں میری!

مرا رونا نہیں ، رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں میں ، خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری

''دریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارم
ز فیض دل تپیدنہا خروش بے نفس دارم''

ریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوں
خوشی روتی ہے جس کو ، میں وہ محروم مسرت ہوں

مری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائی
میں حرف زیر لب ، شرمندۂ گوش سماعت ہوں

پریشاں ہوں میں مشت خاک ، لیکن کچھ نہیں کھلتا
سکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوں

یہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کا
سراپا نور ہو جس کی حقیقت ، میں وہ ظلمت ہوں

خزینہ ہوں ، چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نے
کسی کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوں!

نظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستی
میں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوں

نہ صہباہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہ
میں اس میخا نۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوں

مجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے

عطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میں
کہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میں

اثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کا
مرا آ ئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میں

رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

دیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا
لکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میں

نشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیں!
تری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں

چھپاکر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں

سن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں

یہ خاموشی کہاں تک؟ لذت فریاد پیدا کر
زمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

یہی آئین قدرت ہے، یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہ عمل میں گام زن، محبوب فطرت ہے

ہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا

جلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑں گا

مگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیدا
چمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑں گا

پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا

مجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میں
کہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گا

دکھا دوں گا جہاں کو جو مر ی آنکھوں نے دیکھا ہے
تجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا

جو ہے پردوں میں پنہاں، چشم بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے

کیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نے
گزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نے

رہا دل بستۂ محفل، مگر اپنی نگاہوں کو
کیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نے

فدا کرتا رہا دل کو حسنیوں کی اداؤں پر
مگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نے

تعصب چھوڑ ناداں! دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نے

سراپا نالۂ بیداد سوز زندگی ہو جا
سپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نے

صفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سے
کف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نے

زمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے
غضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نے

زباں سے گر کیا توحید کا دعوی تو کیا حاصل!
بنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نے

کنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھا
ارے غافل! جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نے

ہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کی
نصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی

دکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پرنم کو
جو تڑپاتا ہے پروانے کو، رلواتا ہے شبنم کو

نرا نظارہ ہی اے بوالہوس مقصد نہیں اس کا
بنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کو

اگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھا
نظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کو

شجر ہے فرقہ آرائی، تعصب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو

نہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک بر گ گل تک بھی
یہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کو

پھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میں
یہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کو

محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہے

دوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہنا
علاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہنا

شراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میری
شکت رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہنا

تھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میں
عبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنا

بنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپنا
چمن میں آہ! کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہنا

جو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میں
غلامی ہے اسیر امتیاز ماو تو رہنا

یہ استغنا ہے ، پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کو
تجھے بھی چاہیے مثل حباب آبجو رہنا

نہ رہ اپنوں سے بے پروا ، اسی میں خیر ہے تیری
اگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہنا

شراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کی
سکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنا

محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نے

بیابان محبت دشت غربت بھی ، وطن بھی ہے
یہ ویرانہ قفس بھی، آشیانہ بھی ، چمن بھی ہے

محبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے ، صحرا بھی
جرس بھی، کارواں بھی، راہبر بھی، راہزن بھی ہے

مرض کہتے ہیں سب اس کو، یہ ہے لیکن مرض ایسا
چھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہے

جلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانا
یہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہے

وہی اک حسن ہے، لیکن نظر آتا ہے ہر شے میں
یہ شیریں بھی ہے گویا بیستوں بھی ، کوہکن بھی ہے

اجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کو
مرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہے؟

سکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہ
زباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہے

نمیگردید کوتہ رشتۂ معنی رہا کر دم
حکایت بود بے پایاں، بخاموشی ادا کر دم

مکمل تحریر اور تبصرے>>

نا لۂ فراق



آرنلڈ کی یاد میں

جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں
آہ! مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سر زمیں

آ گیا آج اس صداقت کا مرے دل کو یقیں
ظلمت شب سے ضیائے روز فرقت کم نہیں

''تا ز آغوش وداعش داغ حیرت چیدہ است
ہمچو شمع کشتہ در چشم نگہ خوابیدہ است''

کشتۂ عزلت ہوں، آبادی میں گھبراتا ہوں میں
شہر سے سودا کی شدت میں نکل جاتا ہوں میں

یاد ایام سلف سے دل کو تڑپاتا ہوں میں
بہر تسکیں تیری جانب دوڑتا آتا ہوں میں

آنکھ گو مانوس ہے تیرے در و دیوار سے
اجنبیت ہے مگر پیدا مری رفتار سے

ذرہ میرے دل کا خورشید آشنا ہونے کو تھا
آئنہ ٹوٹا ہوا عالم نما ہونے کو تھا

نخل میری آرزوؤں کا ہرا ہونے کو تھا
آہ! کیا جانے کوئی میں کیا سے کیا ہونے کو تھا

ابر رحمت دامن از گلزار من برچید و رفت
اند کے بر غنچہ ہائے آرزو بارید و رفت

تو کہاں ہے اے کلیم ذروۂ سینائے علم
تھی تری موج نفس باد نشاط افزائے علم

اب کہاں وہ شوق رہ پیمائی صحرائے علم
تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم

''شور لیلی کو کہ باز آرایش سودا کند
خاک مجنوں را غبار خاطر صحرا کند

کھول دے گا دشت وحشت عقدۂ تقدیر کو
توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو

دیکھتا ہے دیدۂ حیراں تری تصویر کو
کیا تسلی ہو مگر گرویدۂ تقریر کو

''تاب گویائی نہیں رکھتا دہن تصویر کا
خامشی کہتے ہیں جس کو، ہے سخن تصویر کا''

مکمل تحریر اور تبصرے>>

چاند



میرے ویرانے سے کوسوں دور ہے تیرا وطن
ہے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن

قصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟
زرد رو شاید ہوا رنج رہ منزل سے تو

آفرنیش میں سراپا نور ، ظلمت ہوں میں
اس سیہ روزی پہ لیکن تیرا ہم قسمت ہوں میں

آہ ، میں جلتا ہوں سوز اشتیاق دید سے
تو سراپا سوز داغ منت خورشید سے

ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے
میری گردش بھی مثال گردش پرکار ہے

زندگی کی رہ میں سرگرداں ہے تو، حیراں ہوں میں
تو فروزاں محفل ہستی میں ہے ، سوزاں ہوں میں

میں رہ منزل میں ہوں، تو بھی رہ منزل میں ہے
تیری محفل میں جو خاموشی ہے ، میرے دل میں ہے

تو طلب خو ہے تو میرا بھی یہی دستور ہے
چاندنی ہے نور تیرا، عشق میرا نور ہے

انجمن ہے ایک میری بھی جہاں رہتا ہوں میں
بزم میں اپنی اگر یکتا ہے تو، تنہا ہوں میں

مہر کا پرتو ترے حق میں ہے پیغام اجل
محو کر دیتا ہے مجھ کو جلوۂ حسن ازل

پھر بھی اے ماہ مبیں! میں اور ہوں تو اور ہے
درد جس پہلو میں اٹھتا ہو وہ پہلو اور ہے

گرچہ میں ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو
سینکڑوں منزل ہے ذوق آگہی سے دور تو

جو مری ہستی کا مقصد ہے ، مجھے معلوم ہے
یہ چمک وہ ہے، جبیں جس سے تری محروم ہے

مکمل تحریر اور تبصرے>>

بلال



چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز میں لایا

ہوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی
تری غلامی کے صدقے ہزار آزادی

وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لیے
کسی کے شوق میں تو نے مزے ستم کے لیے

جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں

نظر تھی صورت سلماں ادا شناس تری
شراب دید سے بڑھتی تھی اور پیاس تری

تجھے نظارے کا مثل کلیم سودا تھا
اویس طاقت دیدار کو ترستا تھا

مدینہ تیری نگاہوں کا نور تھا گویا
ترے لیے تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا

تری نظر کو رہی دید میں بھی حسرت دید
خنک دلے کہ تپید و دمے نیا سائید

گری وہ برق تری جان ناشکیبا پر
کہ خندہ زن تری ظلمت تھی دست موسی پر

تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند

ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا
خوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا

مکمل تحریر اور تبصرے>>

سر گزشت آدم


سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
بھلایا قصۂ پیمان اولیں میں نے

لگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میں
پیا شعور کا جب جام آتشیں میں نے

رہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کو
دکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نے

ملا مزاج تغیر پسند کچھ ایسا
کیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نے

نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی
کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نے

کبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچا
چھپایا نور ازل زیر آستیں میں نے

کبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا
کیا فلک کو سفر، چھوڑ کر زمیں میں نے

کبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوں
دیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نے

سنایا ہند میں آ کر سرود ربانی
پسند کی کبھی یوناں کی سر زمیں میں نے

دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی
بسایا خطۂ جاپان و ملک چیں میں نے

بنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالم
خلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نے

لہو سے لال کیا سینکڑوں زمینوں کو
جہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نے

سمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کی
اسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے

ڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریں
سکھایا مسئلۂ گردش زمیں میں نے

کشش کا راز ہویدا کیا زمانے پر
لگا کے آئنۂ عقل دور بیں میں نے

کیا اسیر شعاعوں کو ، برق مضطر کو
بنادی غیرت جنت یہ سر زمیں میں نے

مگر خبر نہ ملی آہ! راز ہستی کی
کیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نے

ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر
تو پایا خانۂ دل میں اسے مکیں میں نے

مکمل تحریر اور تبصرے>>